ایک آدمی نے حاتم طائی سے پوچھا
ہاں، طَیّ کا ایک یتیم لڑکا جود و کرم میں مجھ سے سبقت لے گیا۔
میں ایک مرتبہ اس کے یہاں مہمان بنا۔ اس کے پاس صرف دس بکریاں تھیں۔
اس نے ایک بکری ذبح کی، اس کا گوشت پکا کر میرے سامنے رکھا۔
اس میں بھیجہ (دماغ) بھی تھا۔ میں نے کھانا کھایا، اور خاص کر بھیجہ مجھے بہت پسند آیا۔
میں نے کہا: “قسم خدا کی! بہت لذیذ ہے!”
وہ چپکے سے اٹھا اور ایک ایک بکری ذبح کرتا گیا، اور ہر بار اس کا بھیجہ میرے سامنے رکھتا گیا، اور مجھے کچھ خبر نہ ہوئی۔
جب میں جانے کے لیے گھر سے باہر نکلا تو دیکھا — چاروں طرف خون ہی خون تھا!
اس نے اپنی ساری بکریاں ذبح کر ڈالی تھیں۔
میں نے کہا: “تم نے ایسا کیوں کیا؟”
تو وہ بولا: “سبحان اللہ! میرے پاس تمہاری پسند کی کوئی چیز ہو اور میں بخل سے کام لوں؟ یہ ایک عرب کے لیے شرم و عار کی بات ہے!”
پوچھا گیا: “اے حاتم! تم نے اس کا بدلہ کس طرح دیا؟”
حاتم نے فرمایا: “میں نے اسے تین سو اونٹنیاں اور پانچ سو بکریاں دیں۔”
کسی نے کہا: “تو پھر تو تم اس سے زیادہ فیاض ہوئے۔”
حاتم نے کہا: “نہیں، وہ مجھ سے زیادہ فیاض ہے، کیونکہ اس کے پاس جو کچھ تھا، وہ سب میرے سامنے رکھ دیا، جب کہ میں نے اسے جو کچھ دیا، وہ میرے بے حساب مال و دولت کا بہت تھوڑا سا حصہ تھا۔”
(المستجاب، ص ۲۳)

Comments
Post a Comment